اب وقت نے اقتدار کا تاج ان کے سر سجا دیا، خیال تھا کہ وہ ماضی کے روائتی سیاستدانوں کی طرح سیاست نہیں کریں گے
یہ الگ سچی بات کہ انہوں نے شوکت خانم، نمل یونیورسٹی جیسے دو بڑے پراجیکٹ بنائے، لیکن یہ اس سے بھی بڑا سچ ہے کہ ہسپتال اور سکول تو عطیات پر چل جایا کرتے ہیں لیکن حکومت اور ملک چندے پر نہیں چلتے، ملک چلانے کیلئے معیشت کو ٹھیک کرنا پڑتا ہے، گورننس بہتر کرنا ہوتی ہے، ٹیکس وصولیاں ٹھیک کرنا ہوتی ہیں۔آج پشاور میں عمران خان باربار کہتے رہے جو ہارتا نہیں وہ سیکھتا نہیں، میں کہتا ہوں وزیراعظم صاحب ایک دوغلطیوں کے بعد اگر کوئی نہ سیکھے تو پھر ایسے جال میں پھنس جاتا ہے پھر نکلنا مشکل ہوجاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اب آپ کو سوچنا ہوگا کہ آپ اتحادی جماعتوں کے سہارے پر اقتدار میں آئے، تینوں جماعتیں آپ کے ناراض ہیں، لیکن وہ کسی وجہ سے آپ کو نہیں چھوڑ رہے، آپ کے سامنے اپوزیشن بھی نہیں ہے۔مسلم لیگ ن کی قیادت باہر ہے، پیپلزپارٹی بھی چپ ہے۔ لیکن پھر بھی آپ نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے،لوگ آپ کے وعدوں کو یاد کررہے ہیں۔اگر آپ عوام کی بنیادی ضروریات پوری کردیں گے تو عوام آپ کے ساتھ ہوں گے۔
90فیصد لوگ آپ سے ناامید ہوچکے ہیں۔اس تمام صورتحال میں آصف زرداری خاموش ہیں، اسی طرح سابق وزیر اعظم نواز شریف نے 48گھنٹے پہلے اپنی صاحبزادی کو اہم پیغام بھجوایا ہے، جس پر مریم نواز نے کچھ اہم رہنماؤں سے بات چیت کی ہے، اگر یہ معاملہ حل نہ ہوا ،اور مریم نوازاس راستے پر چل پڑیں، جس سے ان کو گریز کروایا جارہا ہے، اس سے ایک سیاسی تحریک بن جائے گی، اس کا سب سے زیادہ خطرہ عمران خان کی حکومت ہوگ
No comments:
Post a Comment